Tadabbur-e-Quran - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر اللہ نے ان کے لیے جلا وطنی نہ مقدر کر رکھی ہوتی تو ان کو دنیا میں عذاب دیتا اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔
(ولو لا ان کتب اللہ علیھم الجلاء لعذبھم فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب النار (3)۔ یعنی یہ تو اللہ نے ان کے ساتھ رعایت فرمائی کہ ان کو جلا وطنی ہی کی سزا دی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اس تنبیہ پر کفایت کی جائے کہ ان کے اندر عبرت پذیری کی کچھ صلاحیت ہو تو وہ اپنے رویہ کی اصلاح کریں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں ان پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب بھیج دیتا جس طرح کے عذاب عاد وثمود اور فرعون وغیرہ پر آئے جن سے ان کا قصہ ہی پاک ہوگیا۔ (ولھم فی الاخرۃ عذاب النار)۔ یعنی اس سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو معاملہ اس جلا وطنی ہی پر ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ آخرت میں انکے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہے جو ساری کسر پوری کر دے گا۔
Top