بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بری ہی عظیم اور با فیض ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اس کائنات کے خالق سے متعلق صحیح تصور کی راہ: ’تَبَارَکَ‘ کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ مبالغہ کا بھی ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی باعظمت اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی باگ ہے۔ ’وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ اور باعظمت و بافیض ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی ایسا تصور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے حیطۂ امکان سے خارج ہو۔؂۱ یہ حال بیان ہوا ہے اس مشاہدے کا جو ایک عاقل اور صاحب فکر کے سامنے آتا ہے یا آنا چاہیے جب وہ اس کائنات کی نشانیوں پر غور کرتا ہے۔ اس کی دلیل آگے آ رہی ہے۔ یہاں خلاصۂ فکر پہلے بیان کر دیا ہے تاکہ ہر شخص کے سامنے یہ حقیقت آ جائے کہ اس کائنات پر غور کرنے والا کبھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرا ہے یا وہ کوئی لاابالی اور غیر ذمہ دار ہے جس نے یہ دنیا پیدا تو کر ڈالی لیکن اس کو اس کے خیر و شر سے کوئی دلچسپی نہیں، یا وہ محض ایک محرک اول ہے جس سے ایک حرکت تو صادر ہو گئی لیکن اس حرکت کے نتائج سے اسے کچھ بحث نہیں، یا وہ صرف ایک خاموش علۃ العلل ہے جس کو اپنی معلولات سے علت ہونے کے سوا کوئی اور واسطہ نہیں ہے۔ اس کائنات کے خالق سے متعلق اس قسم کے تصورات میں جو لوگ مبتلا ہوئے یا تو اس وجہ سے ہوئے کہ انھوں نے اس کا صحیح تصور کرنا ہی نہیں چاہا تاکہ ان کی ہوا پرستی میں یہ تصور خلل انداز نہ ہو سکے یا کرنا تو چاہا لیکن اس کی صفات کا عکس اس کی پیدا کی ہوئی وسیع و عظیم کائنات کے آئینہ میں دیکھنے کے بجائے انھوں نے اپنی ان چھوٹی چھوٹی عینکوں سے دیکھنے کی کوشش کی جو ان کے اپنے ہاتھوں کی ایجاد تھیں۔ حالانکہ اس کا صحیح طریقہ صرف ایک ہی تھا کہ بالکل بے لوث اور غیر جانبدار ہو کر اس کی پیدا کی ہوئی کائنات کا مشاہدہ کرتے اور اس کے اندر اس کی صفات کا جلوہ دیکھتے۔ اگر ایسا کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوتی کہ اس کا خالق بڑا ہی عظیم بھی ہے اور بڑا ہی بافیض اور حکیم بھی اور ساتھ ہی اس کی قدرت بھی بے پناہ ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی کام بھی اس کے لیے مشکل یا ناممکن نہیں۔ اس تصور سے ظاہر ہے کہ ان تمام باطل تصورات کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے جن میں مشرک قومیں مبتلا ہوئیں اور ان اوہام کے لیے بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے جن میں فلاسفہ اور سائنس دان مبتلا ہوئے۔ _____ ؂۱ لفظ ’تَبَارَکَ‘ کے تضمنات پر سورۂ فرقان کی آیات ۱ ، ۱۰ اور ۶۱ کے تحت بحث ہو چکی ہے۔
Top