Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے اور وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔
صحیح تصورکے لازمی نتائج: یہ اوپر والی ہی بات دوسرے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کی قدرت، حکمت اور فیض بخشی کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کسی پر بھی کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ پھر موت زندگی پرمقدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کے فیض سے پردۂ عدم سے عالم وجود میں آئی ہے، وہ نہ چاہتے تو کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔ عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے یہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک کارعبث ہو گا جو ایک حکیم و قدیر اور بافیض ہستی کی شان کے خلاف ہے بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جس کو زندگی بخشتا ہے اس امتحان کے لیے بخشتا ہے کہ دیکھے کون اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے، ہر شخص کی نیکی اور بدی کا حساب ہو اور وہ اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔ علاوہ بریں وہ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو اس کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا اور وہ ’غفور‘ بھی ہے اس وجہ سے جو اس کی مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کو وہ اس سے محروم نہیں فرمائے گا بلکہ وہ کسی کی سعی و سفارش کے بغیر اس کے حق دار ٹھہریں گے۔
Top