Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 24
قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْ : وہ اللہ وہ ذات ہے ذَرَاَكُمْ : جس نے پھیلایا تم کو فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے
اصل حقیقت کی یاددہانی نئے اسلوب میں: اب یہ اس اصل حقیقت کی پھر یاددہانی کر دی کہ اگر تم عقل سے کام لو تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ ایک کسان جب اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے تو ہر شخص بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا، اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آخر یہی واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟ کیا تم کو خدا نے بالکل عبث پیدا کیا ہے اور تمہاری ربوبیت کا یہ سارا سامان بالکل بے مقصد ہے؟ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دی ہے قدیم صحیفوں، خصوصاً انجیل میں، مختلف اسلوبوں سے، بیان ہوئی ہے۔ یہ آیت سورۂ مومنون میں بھی گزر چکی ہے اور ہم وہاں بھی اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو آیت ۷۹ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Top