Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
ان سے پوچھو کہ بتائو اگر تمہارا یہ پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے لیے صاف و شفاف پانی کون لائے گا ؟
’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ صاف شفاف، خالص اور بے آمیز پانی۔ ایک قریب الفہم استدلال: پانی کے نیچے اتر جانے کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ پانی کی سطح ہی اتنی نیچی ہو جائے کہ زمین سے پانی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے ہم معنی بن جائے۔ کتنے علاقے ہیں جہاں پانی کی سطح اتنی نیچی ہے کہ وہاں کنوئیں تو درکنار ٹیوب ویل سے بھی پانی حاصل کرنا ایک کار عظیم ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بارش نہ ہونے یا کم ہونے کے سبب سے نہروں، چشموں اور ندیوں کا پانی کم ہو کر گدلا ہو جائے۔ یہاں یہ دونوں مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔ ’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ کے لفظ کی وجہ سے میرا ذہن اس دوسرے مفہوم کی طرف جاتا ہے۔ عذاب الٰہی کا مذاق اڑانے والے متمردین کو اوپر متعدد قریب الوقوع چیزوں سے ڈرایا گیا ہے کہ اس کو بعید از امکان نہ خیال کرو۔ خدا جہاں سے چاہے تمہیں پکڑ سکتا ہے۔ اسی سلسلہ کی یہ آخری بات فرمائی کہ دور کیوں جاتے ہو اپنے اس پانی ہی کو دیکھو کہ اگر اس کی سطح نیچی ہو جانے کے سبب سے یہ گدلا ہو جائے تو تمہیں صاف شفاف، تازہ و شیریں پانی کون فراہم کر سکتا ہے؟ تو جس خدا کے قبضہ میں تمہاری زندگی کی رگ رگ ہے اس سے نچنت اور بے خوف ہونے کے کیا معنی!
Top