Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور جنہوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے
قیامت کا انکار خدا کے انکار کے ہم معنی ہے: اوپر شیاطین کے ساتھ جو معاملہ مذکور ہوا ہے اس سے یہ ان انسانوں کے انجام کے ذکر کی طرف گریز ہے جو اپنے رب کا کفر کریں گے۔ ’رب کے کفر‘ سے یہاں مراد قیامت اور جزاء و سزا کا انکار ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اس کتاب میں تفصیل سے واضح کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ قیامت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات۔۔۔ قدرت، عدل، رحمت اور ربوبیت۔۔۔ کی نفی ہو جاتی ہے۔ ان صفات کی نفی کر کے خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اسی بنیاد پر مشرکین کو جگہ جگہ کفار سے تعبیر کیا ہے حالانکہ وہ خدا کے منکر نہیں تھے۔ ’وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ فرمایا کہ یہ نہایت برا ٹھکانا اور مرجع ہے جو انھوں نے اپنے لیے انتخاب کیا۔ اس کے برے ہونے کے بعض پہلوؤں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
Top