Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ جواب دیں گے کہ ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم لوگ بس ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !
جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔ ’إِنْ اَنتُمْ إِلَّا فِیْ ضَلَالٍ کَبِیْرٍ‘۔ یعنی یہی نہیں کہ ہم نے ان کی کوئی بات مانی نہیں اور اپنی گمراہی پر متنبہ نہیں ہوئے بلکہ الٹے ان کو گمراہ ٹھہرایا کہ ہم نہیں بلکہ تم ایک بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو کر ہمیں یہ ڈراوے سنا رہے ہو کہ مرکھپ جانے کے بعد ہم ازسرنو زندہ کیے جائیں گے، ہمارے ایک ایک قول و فعل کا حساب ہو گا اور ہم اور ہمارے آباء و اجداد جہنم میں پڑیں گے۔ ’اَنتُمْ‘ کی ضمیر جمع ہے حالانکہ اوپر لفظ ’نَذِیْرٌ‘ واحد ہے اس سے یہ اشارہ نکل رہا ہے کہ یہ لوگ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ یہی جواب ہم نے ہر اس شخص کو دیا جس نے ہمیں اس دن سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ خواہ وہ اللہ کا رسول رہا ہو یا اس کے ساتھی رہے ہوں۔
Top