Tadabbur-e-Quran - Al-Haaqqa : 36
وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ
وَّلَا طَعَامٌ : اور نہ کوئی کھانا اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ : مگر پیپ کا۔ زخموں کے دھون کا
اور غسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں ہے۔
’غسلین‘ ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے اپنی دولت کا مصرف صرف اپنی تن پروری اور اپنے کام و دہن کی لذت ہی کو سمجھا اور اس حرص میں غرباء مساکین کے حقوق ہڑپ کر کے اپنے سارے مال کو نجس بنایا اس وجہ سے قیامت کے دن ان کو ناپاک چیزوں کا دھوون ہی کھانے پینے کو ملے گا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آدمی کا مال اللہ کی راہ میں انفاق سے پاک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص انفاق نہیں کرتا تو اس کا سارا مال نجاست کا ڈھیر بن جاتا ہے جس کی اصل حقیقت قیامت میں اس کے سامنے اس شکل میں ظاہر ہو گی جو بیان ہوئی۔
Top