Tadabbur-e-Quran - Al-Insaan : 19
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا
وَيَطُوْفُ : اور گردش کرینگے عَلَيْهِمْ : ان پر وِلْدَانٌ : لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ ۚ : ہمیشہ (نوعمر) رہنے والے اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب تو انہیں دیکھے حَسِبْتَهُمْ : تو انہیں سمجھے لُؤْلُؤًا : موتی مَّنْثُوْرًا : بکھرے ہوئے
اور ان کی خدمت میں غلمان گردش میں ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی سن پر رہیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی گمان کرو گے۔
غلمان اور ان کے اوصاف: یہ ان کی خدمت اور ان کے آگے جام پیش کرنے والے غلمان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ غلمان ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ’مخلّد‘ کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ اس وصف کے ذکر سے مقصود دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ایک اس بات کی طرف کہ نوخیز چھوکرے ہوں گے اس وجہ سے خدمت میں نہایت چاق و چوبند، چست اور سرگرم ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے جس سے ان کی مستعدی بھی برابر قائم رہے گی اور اپنے مخدوموں کی خدمت میں برابر رہنے کے سبب سے ان کے مزاج، عادت اور ذوق سے بھی اچھی طرح آشنا ہوں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ حسن خدمت میں تجربہ کو بڑا دخل ہے۔ بوڑھے خادم میں تجربہ ہوتا ہے لیکن اس کی مستعدی ختم ہو جاتی ہے۔ نئے خادم میں مستعدی ہو سکتی ہے لیکن تجربہ اور ذوق سے ناآشنائی کے سبب سے آقا کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اہل جنت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے خدام مہیا کیے ہیں جن کی ہر خوبی دائمی ہو گی۔ ’اِذَا رَاَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا‘۔ یہ ان کے جمال، ان کی نظافت، ان کی خوش ادائی اور ان کی خوش لباسی کی تصویر ہے کہ جب تم ان کو دیکھو گے تو یہ گمان کرو گے کہ گویا ہر طرف موتی بکھرے ہوئے ہیں۔
Top