Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 101
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ
فَاِذَا : پھر جب نُفِخَ : پھونکا جائے گا فِي الصُّوْرِ : صور میں فَلَآ اَنْسَابَ : تو نہ رشتے بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان يَوْمَئِذٍ : اس دن وَّلَا يَتَسَآءَلُوْنَ : اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے
پھر جونہی کہ صُور پھونک دیا گیا، اِن کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ 94
سورة الْمُؤْمِنُوْن 94 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باپ باپ نہ رہے گا اور بیٹا بیٹا نہ رہے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا باپ کے۔ ہر ایک اپنے حال میں کچھ اس طرح گرفتار ہوگا کہ دوسرے کو پوچھنے تک کا ہوش نہ ہوگا کجا کہ اس کے ساتھ کوئی ہمدردی یا اس کی کوئی مدد کرسکے۔ دوسرے مقامات پر اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْماً ، " کوئی جگری دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا، " (المعارج، آیت 10) اور یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْ مَئِذٍ بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتَہِ الَّتِیْ تُؤْوِیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعاً ثُمَّ یُنْجِیْہِ ، " اس روز مجرم کا جی چاہے گا کہ اپنی اولاد اور بیوی اور بھائی اور اپنی حمایت کرنے والے قریب ترین کنبے اور دنیا بھر کے سب لوگوں کو فدیے میں دے دے اور اپنے آپ کو عذاب سے بچا لے " (المعارج آیات 11 تا 14) اور یَوْمَ یَفِرُّ المَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہ وَبَنِیہ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنھُمْ یَوْمَئِذٍ شَانٌ یُّغْنِیْہِ ، " وہ دن کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں اور باپ اور بیوی اور اولاد سے بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنے حال میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کا ہوش نہ رہے گا " (عبس، آیات 34 تا 37
Top