Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضُول ہی پیدا کیا ہے 102 اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟“
سورة الْمُؤْمِنُوْن 102 اصل میں لفظ عَبَثاً کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا ایک مطلب تو ہے " کھیل کے طور پر "۔ اور دوسرا مطلب ہے " کھیل کے لیے " پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے۔ " کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بطور تفریح بنادیا ہے، تمہاری تخلیق کی کوئی غرض وغایت نہیں ہے، محض ایک بےمقصد مخلوق بنا کر پھیلا دی گئی ہے۔ " دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا " کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ تم بس کھیل کود اور تفریح اور ایسی لاحاصل مصروفیتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو جن کا کبھی کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے "۔
Top