Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 118
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠   ۧ
وَقُلْ : اور آپ کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ : بخش دے وَارْحَمْ : اور رحم فرما وَاَنْتَ : اور تو خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : بہترین رحم کرنے والا ہے
اے محمدؐکہو”میرے ربّ درگزر فرما، اور رحم کر ، اور تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔“ 107
سورة الْمُؤْمِنُوْن 107 یہاں اس دعا کی لطیف معنویت نگاہ میں رہے۔ ابھی چند سطر اوپر یہ ذکر آچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے دشمنوں کو معاف کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمائے گا کہ میرے جو بندے یہ دعا مانگتے تھے، تم ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کے بعد اب نبی ﷺ کو (اور ضمناً صحابہ کرام کو بھی) یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم ٹھیک وہی دعا مانگو جس کا ہم ابھی ذکر کر آئے ہیں۔ ہماری صاف تنبیہ کے باوجود اب اگر یہ تمہارا مذاق اڑائیں تو آخرت میں اپنے خلاف گویا خود ہی ایک مضبوط مقدمہ تیار کردیں گے۔
Top