Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا 68۔۔۔۔ نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ 69
سورة الْمُؤْمِنُوْن 68 اس مختصر سے جملے میں ایک بڑی بات کہی گئی ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا میں نادان لوگوں کی بالعموم یہ روش ہوتی ہے کہ جو شخص ان سے حق بات کہتا ہے وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بات وہ کہی جائے جو ان کی خواہش کے مطابق ہو، نہ کہ وہ جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو۔ حالانکہ حقیقت بہرحال حقیقت ہی رہتی ہے خواہ وہ کسی کو پسند ہو یا ناپسند۔ تمام دنیا کی متفقہ خواہش بھی کسی واقعہ کو غیر واقعہ اور کسی امر حق کو غیر حق نہیں بنا سکتی، کجا کہ حقائق اور واقعات ایک ایک شخص کی خواہشات کے مطابق ڈھلا کریں اور ہر آن بیشمار متضاد خواہشوں سے ہم آہنگ ہوتے رہیں۔ حماقت مآب ذہن کبھی یہ سوچنے کے زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حقیقت اور ان کی خواہش کے درمیان اگر اختلاف ہے تو یہ قصور حقیقت کا نہیں بلکہ ان کے اپنے نفس کا ہے۔ وہ اس کی مخالفت کر کے اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اپنا ہی کچھ بگاڑ لیں گے۔ کائنات کا یہ عظیم الشان نظام جن اٹل حقائق اور قوانین پر مبنی ہے ان کے زیر سایہ رہتے ہوئے انسان کے لیے اس کے سوا کوئی ظاہر ہی نہیں ہے کہ اپنے خیالات، خواہشات اور طرز عمل کو حقیقت کے مطابق بنائے، اور اس غرض کے لیے ہر وقت دلیل، تجربے اور مشاہدے سے یہ جاننے کی کوشش کرتا رہے کہ حقیقت نفس الامری کیا ہے۔ صرف ایک بیوقوف ہی یہاں یہ طرز فکر و عمل اختیار کرسکتا ہے کہ جو کچھ وہ سمجھ بیٹھا ہے، یا جو کچھ اس کا جی چاہتا ہے کہ ہو، یا جو کچھ اپنے تعصبات کی بنا پر وہ فرض کرچکا ہے کہ ہے یا ہونا چاہیے، اس پر جم کر رہ جائے اور اس کے خلاف کسی کی مضبوط سے مضبوط اور معقول سے معقول دلیل کو بھی سننا گوارا نہ کرے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 69 یہاں لفظ ذکر کے تین معنی ممکن ہیں اور تینوں ہی صحیح بیٹھتے ہیں 1 ذکر بمعنی بیان فطرت۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کسی دوسرے عالم کی باتیں نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی ہی حقیقت اور فطرت اور اس کے مقتضیات ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے اس بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، مگر وہ اسے قبول کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ان کا یہ فرار کسی غیر متعلق چیز سے نہیں بلکہ اپنے ہی ذکر سے ہے۔ 2 ذکر بمعنیٰ نصیحت۔ اس کی رو سے آیت کی تفسیر یہ ہوگی کہ جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے یہ ان ہی کے بھلے کے لیے ایک نصیحت ہے، اور ان کا یہ فرار کسی اور چیز سے نہیں اپنی ہی بھلائی کی بات سے ہے۔ 3 ذکر بمعنی شرف و اعزاز۔ اس معنی کو اختیار کیا جائے تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم وہ چیز ان کے پاس لائے ہیں جسے یہ قبول کریں تو ان ہی کو عزت اور سرفرازی نصیب ہوگی۔ اس سے ان کی یہ روگردانی کسی اور چیز سے نہیں، اپنی ہی ترقی اور اپنے ہی اٹھان کے ایک زرین موقع سے رو گردانی ہے۔
Top