Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
جو امرِ حق ہے  وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ 83
سورة الْمُؤْمِنُوْن 83 یعنی اپنے اس عقل میں جھوٹے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو بھی الوہیت (خدائی کی صفات، اختیارات اور حقوق، یا ان میں سے کوئی حصہ) حاصل ہے۔ اور اپنے اس قول میں جھوٹے کہ زندگی بعد موت ممکن نہیں ہے۔ ان کا جھوٹ ان کے اپنے اعترافات سے ثابت ہے۔ ایک طرف یہ ماننا کہ زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کی ہر چیز کا مختار اللہ ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدائی تنہا اسی کی نہیں ہے بلکہ دوسروں کا بھی (جو لامحالہ اس کے مملوک ہی ہوں گے) اس میں کوئی حصہ ہے، یہ دونوں باتیں صریح طور پر ایک دوسرے سے متناقض ہیں۔ اسی طرح ایک طرف یہ کہنا کہ ہم کو اور اس عظیم الشان کائنات کو خدا نے پیدا کیا ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدا اپنی ہی پیدا کردہ مخلوق کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا، صریحاً خلاف عقل ہے۔ لہٰذا ان کی اپنی مانی ہوئی صداقتوں سے یہ ثابت ہے کہ شرک اور انکار آخرت، دونوں ہی جھوٹے عقیدے ہیں جو انھوں نے اختیار کر رکھے ہیں۔
Top