Tafheem-ul-Quran - Al-Ahzaab : 57
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ يُؤْذُوْنَ : ایذا دیتے ہیں اللّٰهَ : اللہ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کا رسول لَعَنَهُمُ : ان پر لعنت کی اللّٰهُ : اللہ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت وَاَعَدَّ : اور تیار کیا اس نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابًا مُّهِيْنًا : رسوا کرنے والا عذاب
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔ 108
سورة الْاَحْزَاب 108 اللہ کو اذیت دینے سے مراد دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے، اس کے مقابلے میں کفر و شرک اور دہریت کا رویہ اختیار کیا جائے، اور اس کے حرام کو حلال کرلیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی جائے، اور رسول کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔
Top