Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔ 32 اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔ 33
سورة الشُّوْرٰی 32 میزان سے مراد اللہ کی شریعت ہے جو ترازو کی طرح تول کر صحیح اور غلط، حق اور باطل، ظلم اور عدل، راستی اور ناراستی کا فرق واضح کردیتی ہے۔ اوپر نبی ﷺ کی زبان سے یہ کہلوایا گیا تھا کہ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں)۔ یہاں بتادیا گیا کہ اس کتاب پاک کے ساتھ وہ میزان آگئی ہے جس کے ذریعہ سے یہ انصاف قائم کیا جائے گا۔ سورة الشُّوْرٰی 33 یعنی جس کو سیدھا ہونا ہے بلا تاخیر سیدھا ہوجائے۔ فیصلے کی گھڑی کو دور سمجھ کر ٹالنا نہیں چاہیے۔ ایک سانس کے متعلق بھی آدمی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد دوسرے سانس کی اسے مہلت ضرور ہی مل جائے گی۔ ہر سانس آخری سانس ہوسکتا ہے۔
Top