Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریکِ خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیّت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ 38 اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضّیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ 39 یقیناً اِن ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
سورة الشُّوْرٰی 38 اس آیت میں شُرَکَاء سے مراد، ظاہر بات ہے کہ وہ شریک نہیں ہیں جن سے لوگ دعائیں مانگتے ہیں، یا جن کی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں، یا جن کے آگے پوجا پاٹ کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ بلکہ لامحالہ ان سے مراد وہ انسان ہیں جن کو لوگوں نے شریک فی الحکم ٹھہرا لیا ہے، جن کے سکھائے ہوئے افکار و عقائد اور نظریات اور فلسفوں پر لوگ ایمان لاتے ہیں، جن کی دی ہوئی قدروں کو مانتے ہیں، جن کے پیش کیے ہوئے اخلاقی اصولوں اور تہذیب و ثقافت کے معیاروں کو قبول کرتے ہیں، جن کے مقرر کیے ہوئے قوانین اور طریقوں اور ضابطوں کو اپنے مذہبی مراسم اور عبادات میں، اپنی شخصی زندگی میں، اپنی معاشرت میں، اپنے تمدن میں، اپنے کاروبار اور لین دین میں، اپنی عدالتوں میں، اور اپنی سیاست اور حکومت میں، اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی وہ شریعت ہے جس کی پیروی ان کو کرنی چاہیے۔ یہ ایک پورا کا پورا دین ہے جو اللہ رب العالمین کی تشریع کے خلاف، اور اس کے اذن (Sanction) کے بغیر ایجاد کرنے والوں نے ایجاد کیا اور ماننے والوں نے مان لیا۔ اور یہ ویسا ہی شرک ہے جیسا غیر اللہ کو سجدہ کرنا اور غیر اللہ سے دعائیں مانگنا شرک ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حواشی، 170، 286، آل عمران حاشیہ، 57، النساء، حاشیہ 90، المائدہ، حواشی 1 تا 5۔ 104۔ 105، الانعام، حواشی، 86، 87، 106، 107، جلد دوم، التوبہ، حاشیہ 31، یونس، حواشی 60۔ 6، ابراہیم، حواشی 30 تا 32، النحل، حواشی 114 تا 116، جلد سوم، الکہف، حواشی 49۔ 50، مریم حاشیہ 27، القصص، حاشیہ 86، جلد چہارم، سبا، آیت 41، حاشیہ ا 63، یسٓ، آیت، 60، حاشیہ، 53)۔ سورة الشُّوْرٰی 39 یعنی اللہ کے مقابلہ میں یہ ایسی سخت جسارت ہے کہ اگر فیصلہ قیامت پر نہ اٹھا رکھا گیا ہوتا تو دنیا ہی میں ہر اس شخص پر عذاب نازل کردیا جاتا جس نے اللہ کا بندہ ہوتے ہوئے، اللہ کی زمین پر خود اپنا دین جاری کیا، اور وہ سب لوگ بھی تباہ کردیے جاتے جنہوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ کر دوسروں کے بنائے ہوئے دین کو قبول کیا۔
Top