Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی  سے آئی ہے، اور بہت سے قصُوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے۔ 52
سورة الشُّوْرٰی 52 واضح رہے کہ یہاں تمام انسانی مصائب کی وجہ بیان نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس وقت مکہ معظمہ میں کفر و نافرمانی کا ارتکاب کر رہے تھے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تمہارے سارے قصوروں پر گرفت کرتا تو تمہیں جیتا ہی نہ چھوڑتا، لیکن یہ مصائب جو تم پر نازل ہوئے ہیں (غالباً اشارہ ہے مکہ کے قحط کی طرف) یہ محض بطور تنبیہ ہیں تاکہ تم ہوش میں آؤ، اور اپنے اعمال کا جائزہ لے کر دیکھو کہ اپنے رب کے مقابلے میں تم نے کیا روش اختیار کر رکھی ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرو کہ جس خدا سے تم بغاوت کر رہے ہو اس کے مقابلے میں تم کتنے بےبس ہو، اور یہ جانو کہ جنہیں تم اپنا ولی و کارساز بنائے بیٹھے ہو، یا جن طاقتوں پر تم نے بھروسہ کر رکھا ہے، وہ اللہ کی پکڑ سے بچانے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتیں۔ مزید توضیح کے لیے یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ جہاں تک مومن مخلص کا تعلق ہے اس کے لیے اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔ اس پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں اور خطاؤں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ حدیث صحیح میں ہے کہ مَا یُصیب المسلمَ مِنْ نَصَبٍ ولا وَصَبٍ ولا ھمٍّ ولا حزن ولا اذًی ولا غمٍّ حتی الشوکۃُ یُشاکھُا الا کفّر اللہ بھا من خطایاہ۔ (بخاری و مسلم) مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے، حتیٰ کہ ایک کانٹا بھی اگر اس کو چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ " رہے وہ مصائب جو اللہ کی راہ میں اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کوئی مومن برداشت کرتا ہے، تو وہ محض کوتاہیوں کا کفارہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے ہاں ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ تصور کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ گناہوں کی سزا کے طور پر نازل ہوتے ہیں۔
Top