Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے 25 تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جَھکو لے کھانے لگے؟
سورة الْمُلْک 25 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ کسی آفت کے موقع پر سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رخ کر کے خدا سے فریاد کرتا ہے۔ کوئی ناگہانی بلا آپڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اوپر سے نازل ہوئی ہے۔ غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالم بالا سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی یا کتب آسمانی کہا جاتا ہے۔ (ابو داؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہوگیا ہے، کیا میں اس لونڈی کو آزاد کرسکتا ہوں ؟ حضور ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا، حضور ﷺ نے پوچھا اور میں کون ہوں ؟ اس نے پہلے آپ کی طرف اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا، جس سے اس کا یہ مطلب واضح ہو رہا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا۔ اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے (اسی سے ملتا جلتا قصہ موطا، مسلم اور نسائی میں بھی روایت ہوا ہے)۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے متعلق حضرت عمر نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا، یہ وہ خاتون ہیں جن کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی (تفسیر سورة مجادلہ حاشیہ 2 میں ہم اس کی تفصیل نقل کرچکے ہیں)۔ ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اسی کو ملحوظ رکھ کر یہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق من فی السماء (وہ جو آسمان میں ہے) کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہوسکتا ہے جبکہ اسی سورة ملک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے کہ الذی خلق سبع سموات طباقا (جس نے تہ بر تہ سات آسمان پیدا کیے) اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے، فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ (پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرف اللہ کا رخ ہے)۔
Top