Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراوٴ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ 26 پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔ 27
سورة الْمُلْک 26 مراد یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اس زمین پر تمہارا بقا اور تمہاری سلامتی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔ اپنے بل بوتے پر تم یہاں مزے سے نہیں دندنا رہے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ جو یہاں گزر رہا ہے، اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا رہین منت ہے۔ ورنہ کسی وقت بھی اس کے ایک اشارے سے ایک زلزلہ ایسا آسکتا ہے کہ یہی زمین تمہارے لیے آغوش مادر کے بجائے قبر کا گڑھا بن جائے، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہاری بستیوں کو غارت کر کے رکھ دے۔ سورة الْمُلْک 27 تبیہ سے مراد وہ تنبیہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک کے ذریعہ سے کفار مکہ کو کی جا رہی تھی کہ اگر کفر و شرک سے باز نہ آؤ گے اور اس دعوت توحید کو نہ مانو گے جو تمہیں دی جا رہی ہے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Top