Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سُننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ 33
سورة الْمُلْک 33 یعنی اللہ نے تو تمہیں انسان بنایا تھا، جانور نہیں بنایا تھا۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑو اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ یہ کان تمہیں اس لیے تو نہیں دیے گئے تھے کہ جو شخص تمہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرے اس کی بات سن کر نہ دو اور جو غلط سلط باتیں پہلے سے تمہارے دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں انہیں پر اڑے رہو۔ یہ آنکھیں تمہیں اس لیے تو نہیں دی گئی تھیں کہ اندھے بن کر دوسروں کی پیروی کرتے رہو اور خود اپنی بینائی سے کام لے کر یہ نہ دیکھو کہ زمین سے آسمان تک ہر طرف جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ آیا اس توحید کی شہادت دے رہی ہیں جسے خدا کا رسول پیش کر رہا ہے یا یہ شہادت دے رہی ہیں کہ سارا نظام کائنات بے خدا ہے یا بہت سے خدا اس کو چلا رہے ہیں۔ اسی طرح یہ دل و دماغ بھی تمہیں اس لیے نہیں دیے گئے تھے کہ تم سوچنے سمجھنے کا کام لے کر یہ سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہ کرو کہ وہ غلط ہے یہ صحیح۔ اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے دی تھیں۔ تم ناشکری کر رہے ہو کہ ان سے اور سارے کام تو لے لیتے ہو مگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی 72۔ 73۔ جلد سوم، المومنون، حواشی 75۔ 76۔ جلد چہارم، السجدہ، حواشی 17۔ 18۔ الاحقاف، حاشیہ 31
Top