Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہتے ہیں مَتٰى : کب ہے هٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ اِنْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم صٰدِقِيْنَ : سچے
یہ کہتے ہیں”اگر تم سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟ 35
سورة الْمُلْک 35 یہ سوال اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں اس کی آمد کا سال، مہینہ، دن اور وقت بتادیا جائے تو وہ اسے مان لیں گے۔ بلکہ دراصل وہ اس کے آنے کو غیر ممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے اور یہ سوال اس غرض کے لیے کرتے تھے کہ اسے جھٹلانے کا ایک بہانہ ان کے ہاتھ آئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ حشر و نشر کا یہ عجیب و غریب افسانہ جو تم ہمیں سنا رہے ہو آخر کب ظہور میں آئے گا ؟ اسے کس وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہے ؟ ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر اسے دکھا کیوں نہیں دیتے کہ ہمیں اس کا یقین آجائے ؟ اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی شخص اگر قیامت کا قائل ہوسکتا ہے تو عقلی دلائل سے ہوسکتا ہے، اور قرآن مجید میں جگہ جگہ وہ دلائل تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں، رہی اس کی تاریخ، تو قیامت کی بحث میں اس کا سوال اٹھانا ایک جاہل آدمی ہی کا کام ہوسکتا ہے کہ جب وہ تمہاری بتائی ہوئی تاریخ پر آجائے گی تو مان لوں گا، آج آخر میں کیسے یقین کرلوں کہ وہ اس روز ضرور آجائے گی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 63، الاحزاب، حاشیہ 116۔ سبا، حواشی 5۔ 48۔ یسین، حاشیہ 45
Top