Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟ 38
سورة الْمُلْک 38 مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا آغاز ہوا اور قریش کے مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا تو گھر گھر حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بد دعائیں دی جانے لگیں۔ جادو ٹونے کیے جانے لگے تاکہ آپ ہلاک ہوجائیں۔ حتی کے قتل کے منصوبے بھی سوچے جانے لگے۔ اس پر یہ فرمایا گیا کہ ان سے کہو، خواہ ہم ہلاک ہوں یا خدا کے فضل سے زندہ رہیں، اس سے تمہیں کیا حاصل ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ خدا کے عذاب سے تم کیسے بچو گے۔
Top