Tafheem-ul-Quran - An-Nisaa : 78
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
ہم نے تمہارے قریب کے آسمان 9 کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے 10 اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ 11 اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کر رکھی ہے
سورة الْمُلْک 9 قریب کے آسمان سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تا روں اور سیاروں کو ہم برہنہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس سے آگے جن چیزوں کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دور کے آسمان ہیں۔ اور ان سے بھی زیادہ دور کے آسمان وہ ہیں جن تک آلات کی رسائی بھی نہیں ہے۔ سورة الْمُلْک 10 اصل میں لفظ " مصابیح " نکرہ استعمال ہوا ہے اور اس کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات ہم نے اندھیری اور سنسان نہیں بنائی ہے بلکہ ستاروں سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں میں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ سورة الْمُلْک 11 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں، اور یہ مطلب بھی نہیں کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بےحد و حساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں، اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جاسکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب انہیں مار بھگاتے ہیں۔ اس چیز کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں کا دعویٰ بھی تھا، کہ شیاطین ان کے تابع ہیں، یا شیاطین سے ان کا رابطہ ہے، اور ان کے ذریعہ سے انہیں غیب کی خبریں حاصل ہوتی ہیں اور وہ صحیح طور پر لوگوں کی قسمتوں کا حال بتاسکتے ہیں۔ اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالم بالا میں جانے اور وہاں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حواشی 9 تا 12۔ الصافات، حواشی 6، 7۔ رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم آئے ہیں، اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں، ان کی بناء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظریہ یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آ کر ادھر کا رخ کرلیتے ہیں (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، ایڈیشن 1967 ء۔ جلد 15۔ لفظ (Meteorites)۔
Top