Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 7
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
اِذَآ اُلْقُوْا : جب وہ ڈالیں جائیں گے فِيْهَا : اس میں سَمِعُوْا : سنیں گے لَهَا : واسطے اس کے شَهِيْقًا : چلانا وَّهِىَ تَفُوْرُ : اور وہ جوش کھارہی ہوگی
جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دَھاڑنے کی ہولناک آوازیں سُنیں گے 13 اور وہ جوش کھا رہی ہوگی
سورة الْمُلْک 13 اصل میں لفظ شھیق استعمال ہوا ہے۔ جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہوگی جہاں ان لوگوں سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورة ہود کی آیت 106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ " ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے "۔ اور پہلے مفہوم کی تائید سورة فرقان آیت 12 سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہوگا اور جہنمیوں کا بھی۔
Top