Fi-Zilal-al-Quran - Al-Ahzaab : 60
وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ
وَاُتْبِعُوْا : اور ان کے پیچھے لگا دی گئی فِيْ هٰذِهٖ : اس میں لَعْنَةً : لعنت وَّ : اور يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن بِئْسَ : برا الرِّفْدُ : انعام الْمَرْفُوْدُ : انہیں انعام دیا گیا
اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افوائیں پھیلانے والے ہیں ، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے
لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔
Top