Tafseer-al-Kitaab - Al-Israa : 71
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا
وَ : اور نُنَزِّلُ : ہم نازل کرتے ہیں مِنَ : سے الْقُرْاٰنِ : قرآن مَا : جو هُوَ شِفَآءٌ : وہ شفا وَّرَحْمَةٌ : اور رحمت لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں کے لیے وَلَا يَزِيْدُ : اور نہیں زیادہ ہوتا الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع) اِلَّا : سوائے خَسَارًا : گھاٹا
(اور بڑی برتری تو اس دن کی ہے) جس دن ہم تمام انسانوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے (اور اپنے حضور جمع کریں گے) ۔ پھر جس کسی کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا تو ایسے لوگ اپنا نامہ اعمال پڑھنے لگیں گے اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔
[53] احادیث میں تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ میدان حشر میں لوگوں کے نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں اڑ اڑ کر پہنچیں گے۔ جنتی کے داہنے ہاتھ میں اور جہنمی کے بائیں ہاتھ میں۔ تو داہنے ہاتھ میں پانے والے مارے خوشی کے جلد جلد انھیں پڑھنے لگیں گے۔
Top