Tafseer-al-Kitaab - Al-Kahf : 7
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا
فَلَعَلَّكَ : تو شاید آپ بَاخِعٌ : ہلاک کرنیوالا نَّفْسَكَ : اپنی جان عَلٰٓي : پر اٰثَارِهِمْ : ان کے پیچھے اِنْ : اگر لَّمْ يُؤْمِنُوْا : وہ ایمان نہ لائے بِهٰذَا : اس الْحَدِيْثِ : بات اَسَفًا : غم کے مارے
واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ (روئے) زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے۔
[1] یعنی امتحان اس بات کا ہے کہ کون اس دنیا کی زینت اور رونق میں کھو کر اللہ کی یاد سے اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور کون نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا عالم ابتلا ہے۔ اس میں تو تکویناً لازمی ہے کہ کوئی مومن ہوگا اور کوئی کافر رہے گا۔ اس لئے غم کرنا بیکار ہے۔ آپ اپنا کام کئے جایئے۔
Top