Tafseer-al-Kitaab - An-Nahl : 69
ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ
ثُمَّ : پھر كُلِيْ : کھا مِنْ : سے۔ کے كُلِّ الثَّمَرٰتِ : ہر قسم کے پھل فَاسْلُكِيْ : پھر چل سُبُلَ : راستے رَبِّكِ : اپنا رب ذُلُلًا : نرم و ہموار يَخْرُجُ : نکلتی ہے مِنْ : سے بُطُوْنِهَا : ان کے پیٹ (جمع) شَرَابٌ : پینے کی ایک چیز مُّخْتَلِفٌ : مختلف اَلْوَانُهٗ : اس کے رنگ فِيْهِ : اس میں شِفَآءٌ : شفا لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے اِنَّ : بیشک فِيْ : میں ذٰلِكَ : اس لَاٰيَةً : نشانی لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے يَّتَفَكَّرُوْنَ : سوچتے ہیں
پھر ہر طرح کے پھولوں سے رس چوستی پھر، پھر اپنے رب کے (ٹھہرائے ہوئے) راستوں پر پوری فرماں برداری کے ساتھ گامزن ہوجا۔ (تو دیکھو، ) اس کے پیٹ سے رنگ برنگ کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں (کی بہت سی بیماریوں) کیلئے شفا ہے۔ بلاشبہ اس میں (بھی قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔
[38] شہد کی مکھی کی یہ صنعت گری جدوجہد، نظم و ضبط اور سرگرمی کا ایک پورا سلسلہ ہے جو عرصے تک جاری رہتا ہے اس لئے اس کے کاموں کو سبل سے تعبیر کیا یعنی عمل کی راہوں سے۔ یعنی اس کے لئے جو راہ عمل ٹھہرا دی گئی ہے اس پر ٹھیک ٹھیک چلتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ذرا بھی ادھر ادھر ہو۔
Top