Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) نپی تلی کردیتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز (کے حال) سے واقف ہے۔
[6] ان آیات میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ نبی اکرم ﷺ ہیں اگرچہ پوری عبارت اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو اس کی نہایت واضح مثال سورة فاتحہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں۔
Top