Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان لوگوں نے (اللہ کے) ایسے شریک (بنا رکھے) ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ؟ اور اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا تو (دنیا ہی میں) ان کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
[14] یعنی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے دین حق کا راستہ بتلا دیا۔ کیا اس کے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے ؟ [15] پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی راہ چھوڑ کر دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں ؟ قول فیصل یہ کہ ان پر پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔
Top