Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے کام باہمی مشورے سے چلاتے ہیں، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں بھی) خرچ کرتے ہیں۔
[22] اس آیت میں اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اس میں وہ تمام اجتماعی امور جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہوں مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ یہاں شوری کی کوئی خاص شکل متعین نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے احکام ساری دنیا کے لئے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ہیں لہذا شوریٰ کا ایک خاص طریقہ ہر سوسائٹی اور ہر تمدن کے لئے یکساں موزوں نہیں ہوسکتا۔ البتہ شوریٰ کا قاعدہ جو آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اصولاً تین باتوں کا مقتضی ہے : ایک یہ کہ معاملہ جن لوگوں کے اجتماعی کام سے متعلق ہو ان سب کو مشورے میں شریک ہونا چاہئے خواہ وہ براہ راست شریک ہوں یا اپنے نمائندوں کے واسطے سے شریک ہوں۔ دوسرے یہ کہ مشورہ آزادانہ، بےلاگ اور مخلصانہ ہونا چاہئے۔ دباؤ یا لالچ کے تحت مشورہ لینا مشورہ نہ کرنے کے برابر ہے۔ تیسرے یہ کہ جو مشورہ اہل شوریٰ کے اتفاق رائے سے دیا جائے یا جسے ان کی اکثریت کی تائید حاصل ہو اسے تسلیم کیا جائے اور اس کے مطابق معاملات چلائے جائیں۔
Top