Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جو کوئی اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
[24] یہاں دو قانون بیان ہوئے ہیں۔ قانون عدل اور قانون فضل۔ قانون عدل یہ کہ جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا مثلاً دانت کا بدلہ دانت اور آنکھ کا بدلہ آنکھ۔ لیکن یہاں یہ بھی شرط ہے کہ وہ شے بذات خود ممنوع اور حرام نہ ہو۔ مثلاً لوٹ کا بدلہ لوٹ اور زنا کے عوض زنا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قانون فضل یعنی رحم و رعایت کا قانون۔ آیت سے انتقام کا صرف جواز نکلتا ہے نہ کہ اس کی ماموریت۔
Top