Tafseer-al-Kitaab - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ اگر اللہ مجھے اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو (آخرت کے) دردناک عذاب سے کون بچا لے گا ؟
[9] کفار رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہلاکت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ خواہ میں اور میرے ساتھی ہلاک کر دئیے جائیں یا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے رفقاء کو اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے، ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جس دردناک عذاب کا آنا یقینی ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا ؟۔
Top