Taiseer-ul-Quran - Al-Muminoon : 99
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ
حَتّيٰٓ : یہانتک کہ اِذَا جَآءَ : جب آئے اَحَدَهُمُ : ان میں کسی کو الْمَوْتُ : موت قَالَ : کہتا ہے رَبِّ : اے میرے رب ارْجِعُوْنِ : مجھے واپس بھیج دے
(یہ لوگ اپنی کارستانیوں میں لگے رہیں گے) جہاں تک کہ ان میں سے کسی کو جب موت آئے گی تو کہے گا : پروردگار ! مجھے دنیا میں 95 واپس بھیج دے
95 رَبِّ ارْجِعُوْنَ میں اپنے پروردگار سے۔۔ کے بعد جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ رَبِّ ارْجِعِنِیْ نہیں استعمال کیا گیا۔ جس کا غالباً ترجمہ و مطلب یوں بنتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ یہ فرشتے جو میری جان نکالنے آئے ہیں یہ مجھے دنیا میں واپس لوٹا دیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیشمار مقامات پر فرشتوں کے عمل کو اپنا ہی عمل قرار دیتے ہوئے اس کی نسبت اپنی طرف بھی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ترجمہ بھی درست ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دے۔
Top