Taiseer-ul-Quran - Al-Insaan : 19
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا
وَيَطُوْفُ : اور گردش کرینگے عَلَيْهِمْ : ان پر وِلْدَانٌ : لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ ۚ : ہمیشہ (نوعمر) رہنے والے اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب تو انہیں دیکھے حَسِبْتَهُمْ : تو انہیں سمجھے لُؤْلُؤًا : موتی مَّنْثُوْرًا : بکھرے ہوئے
اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی 21 رہیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ بکھرے 22 ہوئے موتی ہیں
21 (يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 17 ۝ ۙ ) 56 ۔ الواقعة :17) کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکے اہل جنت کے پاس ہمیشہ موجود رہیں گے۔ کبھی غیر حاضر نہ ہوں گے۔ 22 یعنی ان لڑکوں کا حسن و جمال، ان کی پاکیزگی اور نظافت، ان کی آب و تاب اور ان کے ہمہ وقت ادھر ادھر پھرنے سے یوں معلوم ہوگا کہ یہ خوبصورت موتی ہیں جو ادھر ادھر بکھیر دیئے گئے ہیں۔
Top