Urwatul-Wusqaa - Maryam : 26
فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ
فَكُلِيْ : تو کھا وَاشْرَبِيْ : اور پی وَقَرِّيْ : اور ٹھنڈی کر عَيْنًا : آنکھیں فَاِمَّا تَرَيِنَّ : پھر اگر تو دیکھے مِنَ : سے الْبَشَرِ : آدمی اَحَدًا : کوئی فَقُوْلِيْٓ : تو کہدے اِنِّىْ نَذَرْتُ : میں نے نذر مانی ہے لِلرَّحْمٰنِ : رحمن کے لیے صَوْمًا : روزہ فَلَنْ اُكَلِّمَ : پس میں ہرگز کلام نہ کرونگی الْيَوْمَ : آج اِنْسِيًّا : کسی آدمی
کھا ، پی آنکھیں ٹھنڈی کر ، پھر اگر کوئی آدمی نظر آجائے تو کہہ دے کہ میں نے خدائے رحمن کے حضور روزہ کی منت مان رکھی ہے ، میں آج کسی آدمی سے بھول کر بھی بات نہیں کر سکتی
سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے تیسری ہدایت کے ایک دن کے لئے گفتگو بند کر دے : 26۔ فرستادہ الہی نے تیسری ہدایت سیدہ مریم (علیہ السلام) کو یہ دی کہ آپ کو سفر ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت عظمی سے نواز دیا ۔ ظاہر ہے کہ یہاں آپ کی اتنی جان پہچان تو ہے نہیں ہر آنے والا خیال کرے گا کہ میں اصل حقیقت معلوم کروں کہ یہ لوگ کون ہیں ‘ کہاں سے آئے ہیں ‘ کیوں آئے ہیں ‘ ایسی کیا مجبوری تھی کہ ایسے نازک وقت میں گھر سے نکلے ؟ اس طرح کے بیسیوں سوالات ہیں اور بیسیوں آنے جانے والے عورتیں اور مرد بھی ہوسکتے ہیں اور وقت بھی نہایت خوشی کا ہے کہ اللہ نے ایسا خوبصورت بچہ عطا فرمایا کہ ہے کہ ہر ایک کا دیکھنے کو جی چاہتا ہے اس آمد ورفت میں بولنا اور ساری کہانی سنانا ایک فطری امر ہے اس لئے آپ ایک ہی بات زبان پر رکھیں کہ آج مجھے بولنے سے پرہیز ہے اور یہ کہ میں آج بات چیت نہیں کرسکتی اور جب ایک آدھ دن کے بعد آپ کی طبیعت اچھی طرح سنبھل گئی تو پھر باتیں ہوتی رہیں گی اور یہ بچہ ماشاء اللہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوگا ۔ اس پرہیز کو اس سے صوم یعنی روزہ سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد سختی کے ساتھ بولنے سے پرہیز ہی لی جاسکتی ہے اور یہ بات آج بھی ازروئے طب کہی جاتی ہے کہ عورت وضع حمل کے بعد کم از کم چوبیس گھنٹے تک زیادہ بات چیت کرنے اور تیز روشنی میں دیکھنے اور پیٹ بھر کر کھانے سے پرہیز کرے تو وہ بہت جلد روبصحت ہوجاتی ہے اور اس وقت سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے جلد روبصحت ہونا بہت ضروری تھا کہ وہ سفر میں تھیں اور جہاں ٹھہری تھیں وہاں اس سرائے میں جگہ کی بھی کافی قلت تھی ، زیر نظر آیت پر بھی مفسرین نے عجیب عجیب طریقہ کے حاشیے چڑھائے ہیں اور ایک عام فہم بات کو کیا سے کیا بنا دیا ہے ، صوم سے مراد خواہ مخواہ شرعی روزہ لے لیا گیا ہے اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو مریم خود ہی ارشاد فرما دیتیں کسی کے کہنے سے تو کوئی روزہ شرعی روزہ نہیں ہو سکتا ، ہم اپنی زبان میں ایسے الفاظ اکثر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس طرح بول چال میں سیدہ مریم (علیہ السلام) سے بھی فرشتہ نے کہا ہے جس سے مراد سختی کے ساتھ نہ بولنے کی تاکید کی گئی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے تو مدت سے روزہ رکھا ہے میرا روزہ تم نہ تڑواؤ ‘ عمر گزر گئی اب میں روزہ توڑ کر کیا کروں گا ‘ وغیرہ وغیرہ لہذا اس (صوم) کے لفظ پر طرح طرح کے فرضی سوال اور پھر ان کے جواب جس طرح دیئے گئے ہیں ان کو پڑھ ‘ سن کر ہنسی آتی ہے کہ علمائے کرام بچوں کی سی باتیں کیوں کرنے لگ جاتے ہیں لیکن بچوں میں رہ رہ کر آخر کریں گے بھی کیا ؟
Top