Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 102
فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
فَمَنْ : پس جو۔ جس ثَقُلَتْ : بھاری ہوئی مَوَازِيْنُهٗ : اس کا تول (پلہ) فَاُولٰٓئِكَ : پس وہ لوگ هُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : فلاح پانے والے
اس دن جن لوگوں کا پلہ بھاری نکلا بس وہی ہیں جو کامیاب ہوں گے
اصلیت اس می جو بھی ہوگی وہ اعمال کے ہلکا اور بھاری ہونے پر ہوگی : 102۔ اس روز فلاح و کامیابی کا انحصار وزن کے ہلکے اور بھاری ہونے پر ہی ہوگا ۔ انسانوں کے اعمال کی دو ہی اقسام ہو سکتی ہیں اچھے یابرے ، ایک قسم کے اعمال کم ہوں گے اور دوسری قسم کے زیادہ یا دونوں برابر ۔ دو مادی چیزوں میں تفاصل اور کم وبیش معلوم کرنے کے لئے جو صورت اختیار کی جاتی ہے اس کو میزان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ، جب بدلہ اعمال کے مطابق ہوگا تو ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے اعمال ہی کو دیکھا جائے گا تب ہی انکی جزا وسزا دی جاسکے گی اس لئے کمی بیشی معلوم کرنے کی صورت کو میزان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ چونکہ اس کا ذکر پیچھے سورة الانبیاء کی آیت 47 میں کیا جا چکا ہے اس لئے وہیں سے اس کو دیکھ لیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا ۔
Top