Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 113
قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ
قَالُوْا : وہ کہیں گے لَبِثْنَا : ہم رہے يَوْمًا : ایک دن اَوْ : یا بَعْضَ يَوْمٍ : ایک دن کا کچھ حصہ فَسْئَلِ : پس پوچھ لے الْعَآدِّيْنَ : شمار کرنے والے
وہ کہیں گے ، بس ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ان سے پوچھو جو گنتے رہے ہیں
جواب دینے والے بولیں گے کہ ایک آدھ دن ہی تو ٹھہرے تھے ‘ حساب دانوں سے پوچھ لیا : 113۔ ان کا یہ جواب بول بول کر ان کی بیزاری کا اعلان کر رہا ہے کہ پوچھنے والے کیا بیزار ہوں گے کہ جواب دینے والے ان سے بھی زیادہ بیزار ہوں گے اور وہ ان کے اس سوال کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے کہیں گے کہ دنیا میں ہم کیا رہے ہیں ؟ یہی ایک آدھ دن ہی تو رہے ہیں ‘ کوئی گننے والا ہے تو اس سے پوچھ لو ۔ اس طرح ہر دور کے وڈیروں اور لیڈروں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج جس زندی پر تم ریجھ رہے ہو اور آنے والی زندگی کا تم کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کل آنے والے دن کو تم اسی طرح بھول چکے ہوں گے کہ گویا وہ تم نہیں تھے جو اس دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے تھے کہ تم تو اب اس کا نام لینے سے بھی بیزار ہو گے اور تمہارے سامنے اس کا نام لینا بھی تمہیں عذاب میں مبتلا کردینا ہوگا اور یہ کمال ہے اس آنے والی زندگی کا جس پر تم کو یقین ہی نہ تھا اور اب جب یقین آیا تو ایسا آیا کہ گزشتہ زندگی کا نام لینے سے بھی بیزار ہوگئے اس میں فطرت انسانی کا کتنا صاف اور شفاف منظر نظر آرہا ہے اس کو کہتے ہیں کہ آئندہ راہ احتیاط اور گزشتہ واصلوات لیکن وہ بھول گئے کہ اب آئندہ راہ احتیاط کا وقت ہی جاتا رہا کیونکہ جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوچکا اور یہ بار بار ہونے کی چیز ہی نہیں یہ محاورہ تو دنیا ہی کی زندگی میں اگر کسی کو یاد آجائے تو اس کے لئے مفید ہو سکتا ہے ۔
Top