Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم خیال کرتے ہو ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹنے والے نہیں ؟
سوچ کا وقت تو اب ہے کیا ہم نے تم کو عبث پیدا کردیا ؟ : 115۔ زیر نظر آیت میں مضمون کی اتنی وسعت پائی جاتی ہے کہ اگر اس کو کھولنا شروع کردیا جائے تو یہ بیسیوں صفحات سے بھی متجاوز ہوجائے اس کو کہتے ہیں کہ دریا کو کو زہ میں بند کردیا گیا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اے انسان اس دنیا میں اللہ نے جو کچھ پیدا کیا وہ صرف اور صرف تیرے لئے پیدا کیا کسی چیز کو اس کے ہونے سے اس کو کوئی فائدہ ؟ سورج کو ہونے سے سورج کا کوئی فائدہ ؟ چاند کے ہونے سے چاند کا کوئی فائدہ ؟ ان گنت تاروں اور سیاروں کے ہونے سے ان میں سے کسی ایک کا کوئی فائدہ ہے اپنے اردگرد چوطرفہ غور کرتے جاؤ ان سارے حیوانات پر غور کرو ‘ ان ساری نباتات پر فکر دوڑاؤ ‘ ان سارے جمادات کے متعلق خیال کرکے دیکھو ۔ زمین اور اس کے سارے دفینوں کے متعلق سوچ لو کیا کسی کے ہونے سے اس کی ذات کا کوئی فائدہ ؟ لاریب آپ کو کہنا پڑے گا کہ اس کائنات ہستی کی کسی چیز کو بھی اس کی ذات سے کچھ فائدہ نہیں اور ان میں سے ایک ایک چیز کا فائدہ ہے تو فقط انسان کو ہے اس لئے سمجھ لو کائنات کی ہرچیز اسی حضرت انسان کی خاطر پیدا کی گئی لیکن کیا اس حضرت انسان کو اللہ نے محض بیکار پیدا کردیا ؟ فرمایا بات اس طرح تو نہیں بلکہ انسان کو محض اس لئے پیدا کیا کہ وہ ان ساری نعمتوں سے مستفید ہو کر اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرے اور اس کے صلہ میں اس کے لئے جو انعامات اخروی زندگی میں رکھے گئے ہیں ان سے بھی مستفید ہو لیکن اگر اس نے ناشکری کی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے اپنی اخروی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کرلیا ۔ اگر تم نے ایسا سمجھا تو بلاشبہ بہت ہی غلط سمجھا اللہ کی ہر کائنات کس قدر وسیع ہے ایک ایک چیز پر غور کرتے جاؤ اور اس سان پر چڑھا کر دیکھتے جاؤ تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی بشرطیکہ تم نے عقل کے ناخن لئے اور اب مضمون کا رخ صفات الہی کی طرف بدلنا چاہتا ہے ۔
Top