Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 48
فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ
فَكَذَّبُوْهُمَا : پس انہوں نے جھٹلایا دونوں کو فَكَانُوْا : تو وہ ہوگئے مِنَ : سے الْمُهْلَكِيْنَ : ہلاک ہونے والے
پس انہوں نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو جھٹلایا ، نتیجہ یہ نکلا کہ ہلاک ہوجانے والوں میں سے ہوئے
فرعون والوں نے دونوں کو جھٹلایا اور انجام کار وہ خود ہلاک ہوگئے : 48۔ فرعون اور اس کے اعوان وانصار کے مزاج اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا پیغام سنتے ہی نہایت سرکشی اور غرور کے ساتھ اس کا ٹھکرا دیا ، تفصیل اس کی سورة الاعراف ‘ سورة ہود اور سورة طہ آیت 24 میں گزر چکی ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کو راہ راست پر لانے کے لئے دعوت خداوندی کو پورے عزم وجزم کے ساتھ پیش کیا اور اخلاقی طور پر ان کو دلائل سے ثابت کردیا کہ حکومت کی صلاحیت تم میں موجود نہیں ہے اور ظالم حکمرانوں کے دن گنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فرعون اور اس کے سرداروں نے ان کی ایک نہ سنی جس کے نتیجہ میں فرعون کو مع اس کے لاؤ لشکر اللہ تعالیٰ نے غرق کر کے رکھ دیا اور اس طرح وہ اپنے سے پہلے جھٹلانے والوں کے ساتھ شامل ہوگیا اسی طرح ملک کا انتظام وانصرام اس قوم کے ہاتھ میں دے دیا جن کو وہ اپنے غلام سمجھتا تھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو ان کی کھوئی ہوئی طاقت وسطوت آنکھ جھپکنے میں واپس دلا دی اور پھر اپنے انعامات کی بارش ان پر شروع کردی ۔
Top