Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 57
اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ هُمْ : وہ مِّنْ : سے خَشْيَةِ : ڈر رَبِّهِمْ : اپنا رب مُّشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے (سہمے ہوئے)
جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے (ہر لمحہ اور ہر آن) ڈرتے رہتے ہیں
بلاشبہ ان بدعملوں کے مقابلہ میں نیک عمل لوگ بھی موجود ہیں اور رہیں گے : 57۔ گزشتہ آیات میں کفار اور بدعمل لوگوں کا حال بیان کیا گیا تھا اب ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اہل حق ہیں فرمایا گیا ہے کہ ہم اگر اہل باطل کو ڈھیل دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل حق کو ہم مہلت نہ دیں بلکہ وہی مہلت جو اہل باطل کے لئے تھی وہی اہل حق کے لئے بھی ہے اور غور کرو گے تو سمجھ لو گے کہ ہماری ایک ہی مہلت سے دو کام ہو رہے ہیں اہل باطل اپنی گمراہیوں پر نازاں ہیں کہ کس طرح دنیا کی نعمتیں ان کو دی جا رہی ہیں تو اہل حق ان سے تکلیفیں اٹھا کر ان سے بھی زیادہ خوش نظر آتے ہیں اور وہ اپنے رب کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں گویا ظاہری انعامات یافتہ لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی وہی ڈھیل ان کے لئے باعث عبرت ثابت ہوئی اور وہ سراپا عجز ونیاز ہوگئے اور اطاعت وانقیاد میں اور بڑھ گئے اور بلاشبہ انہوں نے اس کو حکمت الہی قرار دیا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے اور زیادہ ڈرنے لگے ۔
Top