Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 60
وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ يُؤْتُوْنَ : دیتے ہیں مَآ اٰتَوْا : جو وہ دیتے ہیں وَّقُلُوْبُهُمْ : اور ان کے دل وَجِلَةٌ : ڈرتے ہیں اَنَّهُمْ : کہ وہ اِلٰى : طرف رَبِّهِمْ : اپنا رب رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے
جو لوگ جتنا کچھ دے سکتے ہیں بلا تامل دیتے ہیں اور ان کے دل ترساں رہتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے حضور لوٹنا ہے
وہ دوسروں کو دینے کے لئے ترساں رہتے ہیں اور کسی سے حاصل کرنے کی طلب نہیں رکھتے : 60۔ ان لوگوں کی دسویں نشانی یہ بیان کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ جو مال و دولت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے اس کو اس کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے دل میں یہ گھمنڈ کبھی پیدا نہیں ہوا کہ ہم نے اتنا مال خرچ کردیا اور نہ ہی کسی پر کبھی کچھ احسان جتلاتے ہیں بلکہ ان کو ہر وقت یہ احساس بےچین رکھتا ہے کہ جو ہم نے دیا ہے کہیں اس میں نمود ونمائش اور دکھاوے کی آمیزش نہ ہوجائے وہ اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ ان کا دایاں ہاتھ خرچ کرتا ہے اور بائیں کو معلوم تک نہیں ہوتا فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کو رضائے الہی کے لئے خرچ کرتا ہے اور بائیں کو معلوم تک نہیں ہوتا ۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کو رضائے الہی کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اس کے باوجود اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس میں ریا کی آمیزش نہ ہوگئی ہو اور اس سے ان کا یہ صدقہ و خیرات اکارت نہ چلا جائے ، اس لئے کہ ان کو اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں جانے کا پختہ یقین ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو نیکیوں میں بڑے سبک رفتار ہیں یہ نمازیں ادا کرتے ہیں تو اول وقت کا ان کو بہت خیال رہتا ہے ‘ روزے رکھتے ہیں تو فرائض کے علاوہ بھی نوافل روزوں سے اجر وثواب حاصل کرتے رہتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہونے دتے اور وہ صدقات جو فرض وواجب ہیں اس کے علاوہ بھی خرچ کرنے کی عادت ان میں پائی جاتی ہے اور وہ اپنی اس عادت کا اظہار بھی نہیں ہونے دیتے اور ان کا ہر کام رضائے الہی کے لئے ہوتا ہے ۔
Top