Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور اگر سچائی ان کی خواہشوں کی پیروی کرتی تو یقینا آسمان و زمین اور وہ سب جو ان میں ہیں یک قلم درہم برہم ہوجاتے ، ہم نے ان کے لیے نصیحت کی بات مہیا کردی تو یہ اپنی نصیحت کی بات سے گردن پھیرے ہوئے ہیں
اگر سچائی کسی کی خواہشوں کا نام ہو تو آسمان و زمین کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے : 71۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت بڑی اصل کائنات کی طرف اشارہ کیا ہے جو قرآن کریم کی مہمات معارف میں سے ہے یعنی قرآن کریم میں جس حقیقت کو ” حق “ سے تعبیر کرتا ہے وہ محض کسی ایک گوشہ ہی کی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے بلکہ اصل کائنات کی ایک عالمگیر حقیقت ہے وہ کہتا ہے یہاں اصل تخلیق وتکوین ” حق “ اور قیام حق کا قانون ہے ۔ اس کا نام عدل وقسط بھی ہے اور اسی پر تمام نظام کائنات قائم ہے ۔ عالم جسم و مادہ کا ایک ایک گوشہ دیکھتے جاؤ تمہیں ہر گوشہ میں وجود ‘ تکوین ‘ تعمیر ‘ ایجاب ‘ زندگی اور بناؤ کی اصل یہی حقیقت ملے گی یہی حقیقت جب انکار و اعمال انسانی میں ظاہر ہوتی ہے تو اس کا نام ایمان اور عمل صالح ہوجاتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف ہدایت وحی بلاتی ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ اگر حقیقت ان منکرین حق کی خواہشوں کی پیروی کرے تو تمام نظام ارضی وسماوی درہم برہم ہوجائے کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ جس حقیقت سے یہ انکار کر رہے ہی وہی حقیقت ہے جس پر یہ تمام کارخانہ ہستی چل رہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ دنیا میں نادان لوگون کی بالعموم یہ روش ہوئی ہے کہ جو شخص ان سے حق بات کہتا ہے وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں گویا ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بات وہ کہی جائے جو ان کی خواہش کے مطابق ہو نہ کہ وہ جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو حالانکہ حقیقت بہرحال حقیقت ہی رہتی ہے خواہ وہ کسی کو پسند آئے یا نہ پسند آئے ۔ تمام دنیا کی متفقہ خواہش بھی کسی واقعہ کو غیر واقعہ اور کسی امر حق کو غیر حق نہیں بنا سکتی پھر یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ حقائق وواقعات ایک ایک شخص و فرد کی خواہشات کے مطابق ہوتے چلے جائیں اور ہر آن بیشمار متضاد خواہشوں سے ہم آہنگ ہوتے رہیں ۔ عقل و دانش کے کوتاہ لوگ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حقیقت اور ان کی خواہش کے درمیان اگر اختلاف ہے تو یہ قصور حقیقت کا نہیں بلکہ ان کے اپنے نفس کا ہے ، وہ اس کی مخالفت کرکے اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اپنا ہی کچھ بگاڑ لیں گے ، کائنات کا یہ عظیم الشان نظام جن اٹل حقائق اور قوانین پر مبنی ہے ان کے زیر سایہ رہتے ہوئے انسان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے خیالات ‘ خواہشات اور طرز عمل کو حقیقت کے مطابق بنائے نہ یہ کہ حقیقت کو بدل کر اپنے موہوم خیالات کے مطابق کرنا شروع کر دے اور اس بات پر بار بار زور دے کر آج تک ہمارے آباء و اجداد ایسا ہی کہتے یا مانتے چلے آرہے تھے اور وہ سارے غلط کیسے ہو سکتے ہیں اور یہ ایک آدمی ان کے مقابلہ میں سچا کیوں کر تسلیم کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ حقیقت قلت و کثرت کی پیرو نہیں ہوتی بلکہ کثرت کے باوجود کثرت کو حقیقت کی طرف لوٹنا پڑتا ہے کاش کہ یہ بات آج ہمارے علماء گرامی قدر کے ذہن و دماغ میں آجائے اور وہ اپنے آپ کو حقیقت کے قریب لانے کی کوشش کریں نہ کہ حقیقت کو اپنی طرف موڑ لے جانے کی کہ ان کی تعداد زیادہ ہے ۔ بلاشبہ قرآن کریم کے طریق استدلال کا اولین مبداء تعقل وتقکر کی دعوت ہے اور وہ بار بار اسی بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کے لئے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل وبصیرت سے کام لے اور اپنے وجود کے اندر اور اپنے وجود کے باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہے اس میں تدبر و تفکر کی دعوت سے خالی ہو (آیت) ” وفی الارض ایت للمؤقنین ، وفی انفسکم افلا تفصرون “۔ (الذاریات 51 : 20 ‘ 21) ” اور یقین رکھنے والوں کے لئے زمین میں (معرفت حق کی ) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے وجود میں بھی ‘ پھر کیا تم دیکھتے نہیں ؟ “ وہ کہتا ہے کہ انسان کو عقل وبصیرت دی گئی ہے اس لئے وہ اس قوت کے ٹھیک ٹھیک استعمال کرنے نہ کرنے کے لئے جوابدہ ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا (آیت) ” ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ (بنی اسرائیل 17 : 36) ” یقینا (انسان کا) سننا ‘ دیکھنا ‘ سوچنا سب اپنی اپنی جگہ جواب دہی رکھتے ہیں ۔ “ وہ کہتا ہے کہ زمین کی ہرچیز میں ‘ آسمان کے ہر منظر میں ‘ زندگی کے ہر تغیر میں فکر انسان کے لئے معرفت حقیقت کی نشانیاں ہیں بشرطیکہ وہ غفلت واعراض میں مبتلا نہ ہوجائے ، ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون “۔ (یوسف 12 : 105) ” اور آسمان و زمین میں (معرفت حق کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں لیکن افسوس انسان کی غفلت پر) لوگ ان پر سے گزرجاتے ہیں اور نظر اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔ “ ” ہم نے ان کے لئے ان کی نصیحت کی بات مہیا کردی تو یہ اپنی نصیحت کی بات سے گردن پھیرتے ہوئے ہیں ۔ “ (ذکرھم) یعنی ایسی کتاب جو ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتی ہے یا وہ کتاب جس میں ان کے لئے نصیحت ویادداشت ہے یا وہ ذکر جس کی انہوں نے تمنا کی تھی یا ذکر بمعنی بیان فطرت ہے ۔ 1۔ قرآن کریم بلاشبہ نصیحت کے لئے ایک آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے بشرطیکہ کوئی شخص نصیحت حاصل بھی کرنا چاہے ۔ 2۔ قرآن کریم کیا ہے ؟ نصیحت ویاداشت ہے جو محض لوگوں کی بھلائی ونصیحت کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔ 3۔ قرآن کریم وہ ذکر ہے جس کی انہوں نے تمنا کی تھی ” یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے کہ کاش ہمارے پاس ” ذکر “ ہوتا جو گزشتہ قوموں کو ملا تھا تو ہم اس کے پسندیدہ بندے ہوتے ۔ “ (الصفت 37 : 68 “ 169) ” مگر جب وہ آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا ۔ “ (137 : 170) 4۔ ہم کسی دوسرے عالم کی باتیں نہیں کر رہے بلکہ ان کی اپنی ہی حقیقت اور فطرت ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے اس بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں مگر وہ اس کو قبول کرنے سے فرار کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ فرار ان کا کسی غیر متعلق چیز سے نہیں بلکہ اپنے ہی ذکر سے ہے ۔ اس طرح ہر لحاظ سے اس کا مفہوم صحیح بیٹھتا ہے جیسے چاہو سمجھ لو ۔ کسی طرح بھی ان کا حق نہیں تھا کہ وہ اس قرآن کریم سے اعراض کرتے جیسا کہ انہوں نے کہا ۔
Top