Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 86
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون رَّبُّ : رب السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع) السَّبْعِ : سات وَرَبُّ : اور رب الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ : عرش عظیم
تو ان سے پوچھ وہ کون ہے جو باقی آسمانوں کا پروردگار ہے ؟ اور عرش عظیم کا مالک ہے ؟
آسمانوں اور زمین کا اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ 86۔ فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ لوگ آسمانوں کے اقراری ہیں ان سے پوچھئے کہ ان ساتوں آسمانوں میں سے کوئی ایک آسمان بھی ایسا ہے جس کسی غیر اللہ نے بنایا ہو ؟ تو بلاشبہ یہ کہیں گے کہ نہیں یہ تو ساتوں کے ساتوں اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی نے بنائے ہیں ۔ اچھا ! اس عرش عظیم کا خالق ومالک کون ہے ؟ تو آپ ﷺ کو یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ان سب کا بنانے والا ہے اور وہ ہی اس سارے نظام کا چلانے والا ہے ۔ فرمایا وہ تمہارے ان سارے سوالوں کا جواب ایک اور صرف ایک ہی دیں گے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا اور وہ کوئی دوسری بات نہیں کہہ سکیں گے پھر آپ ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں کہ عجیب انسان ہو تم ان سارے تضادات سے بچنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کرتے شاید ان کو اس طرح بھی شرم آئے اور یہ لوگ عقل وفکر سے کام لینے لگیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی ڈھیٹ ہوجائے تو شرم اس کے نزدیک بھی نہی چھوتی اس لئے کہ شرم آنکھوں میں ہوتی ہے اور وہ انہوں نے بند کردی ہیں اور آنکھیں کھول کر دیکھنے کے وہ عادی ہی نہیں اور ان کے سارے مذہبی پیشوا اور راہنما ان کو آنکھیں بند کر کے اور ظاہری روشنیاں بجھا کر دیکھنے کی مشق کراتے ہیں اس لئے دین کی طرف سے انکی آنکھیں مکمل طور پر بند ہیں اور زبان سے وہ سب یہی کہتے آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ” ان سب کا مالک ومختار اللہ ہے ۔ “ اس لئے ان کی زبانیں اللہ اللہ کرتی ہیں لیکن ان کے دلوں میں اللہ کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ غیر اللہ کے لئے وقف ہوچکے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ وہ اس تضاد کو تسلیم ہی نہیں کرتے اس لئے سوئے ہوئے کو تو کوئی شاید جگا سکے لیکن ان جاگتے سوئے ہوؤں کو کوئی نہیں جگا سکتا ۔ (رب العرش العظیم) سے مراد کوئی لکڑی ‘ لوہے یا سونے چاندی کا تخت مراد نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہمہ گیر اقتدار مطلق کی تعبیر کے لئے استعمال ہوا ہے اور جہاں بھی اس کا ذکر ہوا یہی اس سے مراد ہے لیکن علمائے اسلام کے ہاں یہ بھی ایک معرکہ الآراء بحث کا باعث بن چکا ہے لیکن ہم نے اس کو اصول تفسیر میں بیان کردیا ہے اس لئے اس جگہ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔
Top