Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 92
عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠   ۧ
عٰلِمِ الْغَيْبِ : جاننے والا پوشیدہ وَالشَّهَادَةِ : اور آشکارا فَتَعٰلٰى : پس برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک سمجھتے ہیں
وہ غیب اور شہادت دونوں کا جاننے والا ہے ، انہوں نے جو کچھ شرک کی باتیں بنا رکھی ہیں وہ ان سب سے بالا تر ہے
غیب و حاضر کا جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے : 92۔ غیب و حاضر کو جاننے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جو ہر ایک انسان کی ہر ایک بات کو جانتا ہو ، تمام اشیاء کا علم فقط اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے لئے خاص ہے ۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی کسی چیز کا علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک ان کی طرف وحی الہی نہ ہوتی تھی ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے متعلق علم غیب کے جاننے کا عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے اور یہ احترام انبیاء نہیں بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم کے خلاف ایسا عقیدہ رکھنے والے توہین انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ علم غیب کی نسبت انبیاء کرام (علیہ السلام) اور اولیاء کرام کی طرف کرکے لوگ ضلالت حاصل کرتے رہے ہیں اس لئے قرآن کریم نے اس کو بار بار اور مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے تاکہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے ، چناچہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو ویعلم مافی البر والبحر وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین “۔ (7 : 59) ” اور اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں اسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا جو کچھ خشکی میں ہے اور جو سمندروں میں ہے سب کا وہ علم رکھتا ہے ‘ درختوں سے کوئی پتہ نہیں گرتا اور زمین کے اندر کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں پھوٹتا مگر یہ یہ وہ اسے جانتا ہے ‘ کوئی خشک اور تر پھل نہیں گرتا مگر یہ کہ علم الہی کے واضح نوشتہ میں مندرج ہے ۔ “ اور یہی مضمون سورة یونس کی آیت 2 ‘ سورة ہود کی آیت 123 میں بھی پیچھے بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے اور سورة الانعام کی آیت 59 میں بھی اس کی تفصیل کی جا چکی ہے تفسیر عروۃ الوثقی میں مذکورہ سورتوں کی نشان زدہ آیات کریمات کی تفسیر دیکھیں وہاں وضاحت کردی گئی ہے اور مزید دیکھنا چاہیں تو یہ مضمون سورة النمل کی آیت 65 ‘ سورة فاطر کی آیت 38 ‘ سورة لقمان کی آیت 34 ‘ سورة الحجرات کی آیت 18 میں موجود ہے وہاں سے دیکھ لیں ۔
Top