Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 95
وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ
وَاِنَّا : اور بیشک ہم عَلٰٓي : پر اَنْ نُّرِيَكَ : کہ ہم تمہیں دکھا دیں مَا نَعِدُهُمْ : جو ہم وعدہ کر رہے ہیں ان سے لَقٰدِرُوْنَ : البتہ قادر ہیں
اور ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ جن جن باتوں کا ان سے وعدہ کیا ہے انہیں تجھے دکھا دیں
قدرت الہی کی وسعت کا بیان کہ وہ ناساز گار حالات کو سازگار بنا سکتا ہے : 95۔ قدرت الہی کی وسعت کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ بلاشبہ کوئی انسان بھی اس کا احاطہ نہیں کرسکتا اور ناساز گار حالات کو سازگار بنانے میں اس کو ذرا بھی دیر نہیں لگتی وہ آنکھ جھپکنے میں کچھ سے کچھ کرکے دکھا دیتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان نامساعد حالات کے باوجود جو اس وقت نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو درپیش تھے بتایا جارہا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں یعنی آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ان کو ان سب باتوں سے دوچار کردیں جن سے آپ ﷺ ان کو ہمارے حکم سے اطلاع دے چکے ہیں اور آپ ﷺ کے ان نامساعد حالات کو بدل کر ساز گار بنا دیں اور یہی کچھ ہوا جس کی تفصیل پیچھے سورة الانفال کی آیت 23 ‘ 24 میں گزر چکی ہے ۔ عروۃ الوثقی کی جلد چہارم میں سورة الانفال کی مذکورہ آیات کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔
Top