Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 98
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
وَاَعُوْذُ : اور میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری رَبِّ : اے میری رب اَنْ يَّحْضُرُوْنِ : کہ وہ آئیں میرے پاس
میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں
دعا کا تیسرا فقرہ جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین ہوا : ۔ 98۔ ” اے میرے رب ! میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ “ اے بار الہ ! وہ میرے قریب ہی نہ آنے پائیں تاکہ میں ان کے شر سے دور رہ کر تیری یاد اور تیرے دین اسلام کی خدمت میں لگا رہوں ۔ بلاشبہ انسان اپنی ساری عقل و دانش اور زہد وتقوی کے باوجود شیطان مردود کے دام تزویر میں آسکتا ہے اس لئے اس کی ایک اور صرف ایک ہی صورت ہے کہ اللہ رب العزت اپنے دامن رحمت میں چھپا لے اور اپنے خاص فضل و کرم سے ہر کسی انسان کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام چونکہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے تھے اس لئے اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ یہی لوگ معصوم عن الخطا تھے اور علاوہ ازیں کسی کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی پردہ پوشی فرما دے تو یہ اس کا فضل و کرم ہے ، امام رازی رقم طراز ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے رات کے وقت نیند نہ آنے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بستر پر لیٹتے وقت یہ پڑھتے رہا کرو اعوذ باللہ وبکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ ومن شر عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون ۔ ” اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ اپنے سارے بالغ لڑکوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے کہ وہ سوتے وقت یہ پڑھ لیا کریں ۔ “ (ابن کثیر بحوالہ مسند احمد) صبح وشام پڑھی جانے والی دعاؤں میں اس دعا کے شروع کے الفاظ بخاری ومسلم میں بھی آتے ہیں ۔ (عن ابی ہریرہ ؓ
Top