Urwatul-Wusqaa - Al-Qasas : 33
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب اِنِّىْ قَتَلْتُ : بیشک میں نے مار ڈالا مِنْهُمْ : ان (میں) سے نَفْسًا : ایک شخص فَاَخَافُ : سو میں ڈرتا ہوں اَنْ يَّقْتُلُوْنِ : کہ وہ مجھے قتل کردیں گے
(موسیٰ نے) کہا اے میرے رب ! میں نے ان میں سے ایک کو مار ڈالا ہے پس ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو مار نہ ڈالیں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے دربار میں حاضر ہونے کا عذر اور اس کا جواب : 33۔ یہی وہ آیت ہے جس سے مفسرین نے یہ استدلال کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے جب نکلے تھے تو مصر جانے کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے اگر مصر جانے کا ارادہ ہوتا تو جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پاس پیغام لے جانے کا کہا تھا آپ یہ بیان کیوں دیتے کہ ” میرے اللہ ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “ حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے جانے کا جو ارادہ تھا اس میں اپنے خاندان میں رہنے کے لئے جانے کا تھا فرعون کو کوئی راہ دکھانے کا ارادہ نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ اگر فرعون کو چھیڑا ہی نہ جاتا تو خوف کس بات کا تھا کیونکہ قتل کا فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا تھا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے بھی اس قتل خطا کی معافی کا اعلان ہوچکا تھا کیونکہ آپ کا ضمیر مطمئن تھا اس وقت جو آپ نے قتل کرنے نہیں بلکہ قتل ہوجانے کا عذر پیش کیا تو اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اگر میں مصر پہنچ کر سیدھا فرعون کے دربار میں اس کو پیغام پہنچانے کے لئے گیا تو ظاہر ہے کہ وہ اور اس کے اہل دربار تو یہی کہیں گے کہ موسیٰ دوبارہ چھیڑ خانی کے لئے آگیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرور کوئی نہ کوئی فتور ڈالے گا اور جب انہوں نے میرے پیغام کو ایک فتور یا فتنہ کہا تو اس فتنہ اور فتور کو مٹانے کے لئے ایک بہانہ مجھ سے قتل ہوجانے کا تو ان کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے اگرچہ اس میں کوئی جان نہیں لیکن اگر حکومت کسی معاملہ میں متحرک ہوجائے تو اس کو مقدمہ کھڑا کرتے آخر دیر ہی کیا لگتی ہے جب کہ مقدمہ کے لئے ایک عذر وبہانہ بھی ان کے پاس موجود ہو۔ آپ اپنے ملک کے حالات کو دیکھ لیں تو آپ پر بات روشن ہوجائے گی کہ کتنے مقدمات تھے جن میں فی الواقعہ کوئی جان نہیں تھی لیکن حکومت نے ان میں مداخلت کرکے انکو ایسا تازہ زندہ وجاوید بنایا کہ اس بنا پر لوگوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا اور ایسے بھی مقدمات تھے کہ فی الواقعہ لوگوں نے قتل کئے اور ملک کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ ان کا قاتل کون ہے لیکن قاتلوں کو فرشتے ثابت کرکے دکھا گیا اور مقتولین کے قتل کا کچھ بھی نہ بنا یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ ایسے ہی کہ حکومت وقت نے چاہا کہ ایسا ہوجائے تو بس ایسا ہوگیا یہی ظالم قوموں اور ظالم بادشاہوں کی تاریخ اس وقت کہتی تھی اور یہی آج کہہ رہی ہے اور اس خطرہ کا ذکر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں عرض کیا تھا ، خیال رہے کہ ہمارا ملک پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا اس وقت سے آج تک زمام حکومت اس ملک کے باشندوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ ہاتھ اس ملک کے لئے بہت فاصلہ پر ہیں اس ملک عزیز کے چند غداروں کو انہوں نے مہروں کے طور پر استعمال کیا ہے اور کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ جب چاہتے ہیں حکومت کو بدل کر رکھ دیتے ہیں عوام کو نہیں تو ان مہروں کو یقینا علم ہے لیکن اگر وہ اس طرح استعمال نہ ہوں تو وہ یقینا اس ملک کے اندر رہ ہی نہ سکیں اور اگر رہیں تو حکومت کی کرسیوں پر وہ کبھی نہ بیٹھ سکیں اس لئے انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے طے کرلیا ہے کہ یہ ملک جب تک چلتا ہے اس طرح چلتا رہے تمہاری باری آئے گی تو ہم چشم پوشی کریں گے اور اگر ہماری باری آئی تو تم کو چشم پوشی کرنا ہوگی بس یہ معاہدہ ان کے سیاسی ایمان کا حصہ ہے باقی سب ہاتھی کے دانتوں کا معاملہ ہے اور ظاہر ہے کہ وہ کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں دراصل زمان حکومت ہے تو ان کے ساتھ یہاں کے مہروں کا اس طرح معاہدہ ہے کہ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو۔
Top