Urwatul-Wusqaa - Al-Qasas : 79
فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ
فَخَرَجَ : پھر وہ نکلا عَلٰي : پر (سامنے) قَوْمِهٖ : اپنی قوم فِيْ : میں (ساتھ) زِيْنَتِهٖ : اپنی زیب و زینت قَالَ : کہا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يُرِيْدُوْنَ : چاہتے تھے الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی يٰلَيْتَ : اے کاش لَنَا مِثْلَ : ہمارے پاس ہوتا ایسا مَآ اُوْتِيَ : جو دیا گیا قَارُوْنُ : قارون اِنَّهٗ : بیشک وہ لَذُوْ حَظٍّ : نصیب والا عَظِيْمٍ : بڑا
پھر (ایک دن) اپنی زینت سے اپنی قوم والوں کے سامنے نکلا ، جو لوگ طالب دنیا تھے وہ بول اٹھے اے کاش ! جیسا کچھ قارون کو ملا ہمیں بھی ملا ہوتا ، بلاشبہ وہ بڑا نصیبے والا ہے (کہ صاحب جاہ و جلال اور تزک و احتشام ہے)
قارون کا طمطراق سے نکلنا اور قوم بنی اسرائیل کا اس کو دیکھنا : 79۔ قارون نے جب دیکھا کہ موسیٰ کس طرح بھی پیچھا نہیں چھوڑتا تو اس کو زچ کرنے کے لئے اور پنی دولت و حشمت کے مظاہرے سے مرعوب کرنے کے لئے ایک دن بڑے کروفر کے ساتھ نکلا ، موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے کے ایک بڑے مجمع میں پیغام الہی سنا رہے تھے کہ قارون ایک بڑی جماعت اور خاص شان و شوکت اور پوری نمائش کے ساتھ سامنے سے گزرا بلاشبہ اس کا ارشارہ یہ تھا کہ اے موسیٰ ! اگر تیرے پاس بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت ہے تو میرے پاس بھی ایک جتھا موجود ہے لیکن تیری جماعت اور میرے جتھے میں جو فرق ہے اس کو اپنی آنکھوں سے ذرا دیکھ لے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا ۔ بنی اسرائیل نے جب قارون کی اس دنیوی شان و شوکت و عظمت کو دیکھا تو ان میں سے کچھ آدمیوں کے دلوں میں انسانی کمزوری نے یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ بےچین ہو کر اپنے دل ہی دل میں یہ دعا کرنے لگے کہ اے کاش ! یہ دولت و ثروت اور عظمت و شوکت کہیں ہم کو بھی نصیب ہوتی ۔ قارون کو تو دنیا کے مال و دولت کا وافر حصہ ملا ہے دیکھو کہ یہ شخص کتنا خوش نصیب و خوش بخت ہے کہ آج اس کا طوطی بولتا ہے ، قارون کے نکلنے کا اظہار اور لوگوں کا اس پر تبصرہ آپ نے سنا اب ایمانداری سے غور کرو کہ ہم بھی جب ان قارونوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے طمطراق کی داستانیں سنتے اور ان کی خاص میٹنگوں میں ان کو دیکھتے ہیں کیا ہمارے دل میں بھی یہ بات نہیں گزرتی اور کیا ہماری زبانیں اس طرح بیان نہیں کرتیں کہ کسی ظالم سے ظالم کی خوشحالی کی بات سنتے ہیں تو یہی نہیں بولتے کہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے اور اس کی کیا ہی شان و شوکت ہے اچھا پھر بنی اسرائیل کے ان مبصرین اور ہم میں فرق کیا رہا ؟ بلاشبہ اگر بنی اسرائیل کے فرعون اور آج کے فرعونوں میں کوئی فرق نہیں تو اس وقت کے دیکھنے والوں اور بیان کرنے والوں میں اور ہم جو دیکھنے والے ہیں اور بیان کرنے والے ہیں ان میں بھی کوئی فرق موجود نہیں ۔
Top